حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ هَارُونَ الْأَعْوَرِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ): كَانَ يَقْرَأُ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ سورة الواقعة آية 89 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَارُونَ الْأَعْوَرِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ «فروح وريحان وجنة نعيم» ١ ؎ پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اسے ہم صرف ہارون اعور کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحروف (٣٩٩١) (تحفة الأشراف : ١٦٢٠٤) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : مشہور قراءت «فَرَوحٌ» (راء پر فتحہ کے ساتھ) ہے ، یعقوب کی قراءت راء کے ضمہ کے ساتھ ہے ، فتحہ کی صورت میں معنی ہے اسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے ، اور ضمہ کی صورت میں معنی ہوگا : اس کی روح پھولوں اور آرام والی جنت میں نکل کر جائیگی (الواقعہ : ٨٩ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2938