حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍحَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ (ﷺ) وَنَحْنُ فِي الْغَارِ: لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يَنْظُرُ إِلَى قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ تَفَرَّدَ بِهِ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ هَمَّامٍ نَحْوَ هَذَا.
ابوبکر (رض) کہتے ہیں کہ میں اور نبی اکرم ﷺ دونوں جب غار میں تھے تو میں نے آپ ﷺ سے کہا کہ اگر ان (کافروں) میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالے تو ہمیں اپنے قدموں کے نیچے (غار میں) دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا : ابوبکر ! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال و گمان ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہمام کی حدیث مشہور ہے اور ہمام اس روایت میں منفرد ہیں، ٣ - اس حدیث کو حبان بن ہلال اور کئی لوگوں نے اسی کے مانند ہمام سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/مناقب الصحابة ٢ (٣٦٥٣) ، ومناقب الأنصار ٤٥ (٣٩٢٢) ، وتفسیر التوبة ٩ (٤٦٦٣) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨١) (تحفة الأشراف : ٦٥٨٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اللہ تعالیٰ کے قول «إن اللہ معنا» (التوبہ : ٤٠ ) کی طرف اشارہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح تخريج فقه السيرة (173) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3096