حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةَ حَرَامٍ، فَأَتَ النَّبِيَّ (ﷺ) فَسَأَلَهُ عَنْ كَفَّارَتِهَا فَنَزَلَتْ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَلِي هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: لَكَ وَلِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک (غیر محرم) عورت کا ناجائز بوسہ لے لیا پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر پوچھا کہ اس کا کفارہ کیا ہے ؟ اس پر آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات» نازل ہوئی، اس شخص نے پوچھا کیا یہ (کفارہ) صرف میرے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ تمہارے لیے ہے اور میری امت کے ہر اس شخص کے لیے جو یہ غلطی کر بیٹھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٣١١٢ (تحفة الأشراف : ٩٣٨٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1398) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3114