حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو صَالِحٍ هَذَا هُوَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئِ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ وَاسْمُهُ: بَاذَانُ، وَيُقَالُ بَاذَامُ أَيْضًا.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں پر مساجد بنانے والے اور چراغ جلانے والے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجنائز ٨٢ (٣٢٣٦) ، سنن النسائی/الجنائز ١٠٤ (٢٠٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٩ (١٥٧٥) ، ( تحفة الأشراف : ٥٣٧) ، مسند احمد (١/٢٢٩، ٢٨٧، ٣٢٤، ٣٣٧) (ضعیف) (سند میں ” ابو صالح باذام مولیٰ ام ہانی ضعیف ہیں، مسجد میں صرف چراغ جلانے والی بات ضعیف ہے، بقیہ دو باتوں کے صحیح شواہد موجود ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، و، الصحيحة بلفظ : زوارات دون السرج ، ابن ماجة (1575) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 320