حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْسَمُرَةَ بْنِ جَنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) فِي قَوْلِ اللَّهِ: وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ سورة الصافات آية 77 قَالَ: حَامٌ، وَسَامٌ، وَيَافِثُ ، كَذَا قَالَ أَبُو عِيسَى: يُقَالُ: يَافِتُ، وَيَافِثُ بِالتَّاءِ وَالثَّاءِ، وَيُقَالُ: يَفِثُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ.
سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول «وجعلنا ذريته هم الباقين» ہم نے نوح ہی کی اولاد کو باقی رکھا (الصافات : ٧٧) ، کی تفسیر میں فرمایا : (نوح کے تین بیٹے) حام، سام اور یافث تھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سعید بن بشیر کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ٢- یافت «ت» سے اور یافث «ث» سے دونوں طرح سے کہا جاتا ہے «یفث» بھی کہا جاتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٦٠٥) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کے سمرہ (رض) سے سماع میں سخت اختلاف ہے، نیز حسن مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3230