حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دعا عبادت کا مغز (حاصل و نچوڑ) ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٥) (ضعیف) (سند میں ” ابن لھیعہ “ ضعیف ہیں، اس لیے مخ العبادة کے لفظ سے حدیث ضعیف ہے، اور ” الدعاء ھو العبادة “ کے لفظ سے نعمان بن بشیر (رض) کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ دعا عبادت کا خلاصہ اور اصل ہے ، اس لیے جو شخص اپنی حاجت برآری اور مشکل کشائی کے لیے غیر اللہ کو پکارتا ہے ، وہ گویا غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے ، جب کہ غیر اللہ کی عبادت شرک ہے ، اور شرک ایسا گناہ ہے جو بغیر توبہ کے ہرگز معاف نہیں ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف بهذا اللفظ، الروض النضير (2 / 289) ، المشکاة (2231) // ضعيف الجامع الصغير (3003) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3371