حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ السُّلَيْمِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) إِذَا وَدَّعَ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَلَا يَدَعُهَا حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ يَدَعُ يَدَ النَّبِيِّ (ﷺ)، وَيَقُولُ: اسْتَوْدِعِ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَآخِرَ عَمَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کسی شخص کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑتے ١ ؎ اور اس کا ہاتھ اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ شخص خود ہی آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا اور آپ کہتے : «استودع اللہ دينک وأمانتک وآخر عملک» میں تیرا دین، تیری امانت، ایمان اور تیری زندگی کا آخری عمل (سب) اللہ کی سپردگی و حوالگی میں دیتا ہوں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- یہ حدیث دوسری سند سے بھی ابن عمر (رض) سے آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر : سنن ابی داود/ الجھاد ٨٠ (٢٦٠٠) ، وسنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٤ (٢٨٢٦) (تحفة الأشراف : ٧٤٧١) (صحیح) (سند میں ابراہیم بن عبد الرحمن بن یزید مجہول راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو : الصحیحة رقم ١٤، ١٦، ٢٤٨٥) وضاحت : ١ ؎ : اس سے رخصت کے وقت بھی مصافحہ ثابت ہوتا ہے ، معلوم نہیں لوگوں نے کہاں سے مشہور کر رکھا ہے کہ رخصت کے وقت مصافحہ ثابت نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (16 - 2485) ، الکلم الطيب (169 - 122 / التحقيق الثاني) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3442