حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) قَاعِدًا إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): عَجِلْتَ أَيُّهَا الْمُصَلِّي، إِذَا صَلَّيْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، وَصَلِّ عَلَيَّ ثُمَّ ادْعُهُ ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى رَجُلٌ آخَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): أَيُّهَا الْمُصَلِّي ادْعُ تُجَبْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبُو هَانِئٍ اسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْجَنْبِيُّ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ.
فضالہ بن عبید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کے ساتھ (مسجد میں) تشریف فرما تھے، اس وقت ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز پڑھی، اور یہ دعا کی : اے اللہ ! میری مغفرت کر دے اور مجھ پر رحم فرما، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے نمازی ! تو نے جلدی کی، جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو اللہ کے شایان شان اس کی حمد بیان کر اور پھر مجھ پر صلاۃ (درود) بھیج، پھر اللہ سے دعا کر ، کہتے ہیں : اس کے بعد پھر ایک اور شخص نے نماز پڑھی، اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے نمازی ! دعا کر، تیری دعا قبول کی جائے گی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس حدیث کو حیوہ بن شریح نے ابوہانی خولانی سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٨١) ، سنن النسائی/السھو ٤٨ (١٢٨٥) (تحفة الأشراف : ١١٠٣١) ، و مسند احمد (٦/١٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صفة الصلاة، صحيح أبي داود (1331) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3476