hadith book logo

Jamiat Tirmidhi: Hadith 3625

.

جامع الترمذي

3625
Jamiat Tirmidhi
صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) نَتَدَاوَلُ فِي قَصْعَةٍ مِنْ غَدْوَةٍ حَتَّى اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةٌ،‏‏‏‏ وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ فَمَا كَانَتْ تُمَدُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَاهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الْعَلَاءِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ.
سمرہ بن جندب (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک بڑے برتن میں صبح سے شام تک کھاتے رہے، دس آدمی اٹھتے تھے اور دس بیٹھتے تھے، ہم نے (سمرہ سے) کہا : تو اس پیالہ نما بڑے برتن میں کچھ بڑھایا نہیں جاتا تھا ؟ انہوں نے کہا : تمہیں تعجب کس بات پر ہے ؟ اس میں بڑھایا نہیں جاتا تھا مگر وہاں سے، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی جانب اشارہ کیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٤٦٣٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اللہ کی طرف سے معجزانہ طور پر کھانا بڑھایا جاتا رہا ، یہ آپ ﷺ کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (5958) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3625