حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بُنُ بَشَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدِ بْنُ أَخْطَبَ، قَالَ: مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَدَعَا لِي ، قَالَ عَزْرَةُ: إِنَّهُ عَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ إِلَّا شَعَرَاتٌ بِيضٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو زَيْدٍ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ.
ابوزید بن اخطب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا اور میرے لیے دعا فرمائی، عزرہ کہتے ہیں : وہ ایک سو بیس سال تک پہنچے ہیں پھر بھی ان کے سر کے صرف چند بال سفید ہوئے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ابوزید کا نام عمرو بن اخطب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٦٩٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ایسا آپ ﷺ کے ابوزید کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیرنے اور دعا کی برکت سے ہوا ، یہ آپ ﷺ کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3629