حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
براء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جس کے بال کان کی لو کے نیچے ہوں سرخ جوڑے ١ ؎ میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے دونوں کندھوں سے لگے ہوتے تھے ٢ ؎، اور آپ کے دونوں کندھوں میں کافی فاصلہ ہوتا تھا ٣ ؎، نہ آپ پستہ قد تھے نہ بہت لمبے ٤ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٧٢٤ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : آپ کے بالوں کی مختلف اوقات میں کئی حالت ہوا کرتی تھی ، کبھی آدھے کانوں تک ، کبھی کانوں کے لؤوں تک ، کبھی آدھی گردن تک ، اور کبھی کندھوں کو چھوتے ہوئے۔ ٢ ؎ : مردوں کے لال کپڑے پہننے کے سلسلے میں علماء درمیان مختلف روایات کی وجہ سے اختلاف ہے ، زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ آپ کا یہ جوڑا ایسا تھا کہ اس کا تانہ لال رنگ تھا ، یہ بالکل خالص لال نہیں تھا ، کیونکہ آپ نے خود خالص لال سے مردوں کے لیے منع کیا ہے ، ( دیکھئیے کتاب اللباس میں مردوں کے لیے لال کپڑے پہننے کا باب ) ۔ ٣ ؎ : یعنی آپ کے کندھے کافی چوڑے تھے۔ ٤ ؎ : ناٹا اور لمبا ہونا دونوں معیوب صفتیں ہیں ، آپ درمیانی قد کے تھے ، عیب سے مبرا ، ماشاء اللہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح ومضی (1794) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3635