حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هَذَا وَلَكِنَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيْنَهُ فَصْلٌ يَحْفَظُهُ مَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری طرح جلدی جلدی نہیں بولتے تھے بلکہ آپ ایسی گفتگو کرتے جس میں ٹھہراؤ ہوتا تھا، جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا وہ اسے یاد کرلیتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اسے یونس بن یزید نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٢١ (٤٨٣٩) (نحوہ) سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٣٩ (٤١٢) (تحفة الأشراف : ١٦٤٠٦) ، و مسند احمد (٦/١١٨، ١٣٨) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن المختصر (191) ، المشکاة (5828) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3639