حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُلِعَائِشَةَ: أَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ؟ قَالَتْ: أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَتْ: عُمَرُ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَتْ: ثُمَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: فَسَكَتَتْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا : صحابہ میں سے رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ کون محبوب تھے ؟ انہوں نے کہا : ابوبکر، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ انہوں نے کہا : عمر، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ کہا : پھر ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ تو وہ خاموش رہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٠٢) (تحفة الأشراف : ١٦٢١٢) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے حدیث نمبر (٣٧٥٨، نیز ٣٦٦٧) وضاحت : ١ ؎ : صحابہ کے فضائل و مناقب کے مختلف اسباب ہیں ، منجملہ سبب تو سب کا صحابی رسول ہونا ہے ، اور الگ سبب یہ ہے کہ کسی کی فضیلت اسلام میں تقدم کی وجہ سے ہے ، کسی کی اللہ و رسول سے ازحد فدائیت کی وجہ سے ہے ، اور کسی سے کسی بات میں بڑھے ہونے کی وجہ سے ہے ، اور کسی کی فضیلت دوسرے کی فضیلت کے منافی نہیں ہے ، اور اس حدیث میں جو عثمان و علی (رض) کا تذکرہ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عمر (رض) کے بعد ان دونوں کا مقام نہیں بلکہ ابوعبیدہ (رض) کا ہے ، مگر احادیث میں یہ ترتیب ثابت ہے ، کہ ابوبکر کے بعد عمر ان کے بعد عثمان اور ان کے بعد علی ، پھر ان کے بعد عشرہ مبشرہ ، پھر عام صحابہ کا مقام ہے (رض) اجمعین۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3657