حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاق بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا. هَذَا غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَعْنٍ، وَقَالَ: عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : تم جہنم سے اللہ کے آزاد کردہ ہو تو اسی دن سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- بعض راویوں نے یہ حدیث معن سے روایت کی ہے اور سند میں «عن موسیٰ بن طلحة عن عائشة» کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٩٢١) (صحیح) (الصحیحة ١٥٧٤) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (6022 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3679