حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ َرَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) كَانَ عَلَى حِرَاءَ هُوَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): اهْدَأْ إِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَبُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر، عمر، علی، عثمان، طلحہ، اور زبیر (رض) حرا پہاڑ ١ ؎ پر تھے، تو وہ چٹان جس پر یہ لوگ تھے ہلنے لگی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھہری رہ، تجھ پر نبی، صدیق اور شہید ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- اس باب میں عثمان، سعید بن زید، ابن عباس، سہل بن سعد، انس بن مالک، اور بریرہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦ (٢٤١٧) (تحفة الأشراف : ١٢٧٠٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ ( باب مناقب ابی بکر ) اور ( باب مناقب عثمان ) میں احد پہاڑ کا تذکرہ ہے ، حافظ ابن حجر کے بقول : یہ دو الگ الگ واقعات ہیں ، اس میں کوئی تضاد یا تعارض کی بات نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2 / 562) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3696