حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَقَالَ: مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، وَأَنَسٍ، وَالسَّائِبِ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آدمی کی نماز کے بارے میں پوچھا جسے وہ بیٹھ کر پڑھ رہا ہو ؟ تو آپ نے فرمایا : جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ بیٹھ کر پڑھنے والے کے بالمقابل افضل ہے، کیونکہ اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا، اور جو لیٹ کر پڑھے اسے بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ملے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عمران بن حصین کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، انس، سائب اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٧ (١١١٥) ، و ١٨ (١١١٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٧٩ (٩٥١) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٢١ (١٦٦١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤١ (١٢٣١) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٨٣١) ، مسند احمد (٤/٤٣٣، ٤٣٥، ٤٤٢، ٤٤٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور یہ فرمان نفل نماز کے بارے میں ہے ، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1231) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 371