حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ ابْنِ أَخِي يَحْيَى بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ (ﷺ) أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَبْغَضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ . قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِينَ دَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ (ﷺ). قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی امی ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے ١ ؎۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں : میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں، جن کے لیے نبی اکرم ﷺ نے دعا فرمائی ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٣٣ (٧٨) ، سنن النسائی/الإیمان ١٩ (٥٠٢١) ، و ٢٠ (٥٠٢٥) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٤) (تحفة الأشراف : ١٠٠٩٢) و مسند احمد (١/٨٤، ٩٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس سے شرعی محبت اور عداوت مراد ہے ، مثلاً ایک آدمی علی سے تو محبت رکھتا ہے مگر ابوبکر و عمر (رض) سے بغض رکھتا ہے تو اس کی محبت ایمان کی علامت نہیں ہوگی ، اور جہاں تک بغض کا معاملہ ہے ، تو صرف علی (رض) سے بھی بغض ایمان کی نفی کے لیے کافی ہے ، خواہ وہ ابوبکر و عمر و عثمان (رض) سے محبت ہی کیوں نہ رکھتا ہو۔ ٢ ؎ : یعنی : ارشاد نبوی اے اللہ تو اس سے محبت رکھ جو علی سے محبت رکھتا ہے ، کہ مصداق میں اس دعائے نبوی کے افراد میں شامل ہوں کیونکہ میں علی (رض) سے محبت رکھتا ہوں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (114) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3736