حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ (رض) کے پاس آیا تو انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنا کام پورا کرچکے ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ (رض) کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٣٢٠٢ (حسن) وضاحت : ١ ؎ : یہ اللہ تعالیٰ کے قول «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا اللہ عليه فمنهم من قضی نحبه ومنهم من ينتظر» (الأحزاب : 23 ) کی طرف اشارہ ہے ، یعنی : مومنوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان ( صبر و ثبات ) کو سچ کر دکھایا ، ان میں سے بعض نے تو اپنی نذر پوری کردی ، اور بعض وقت کا انتظار کر رہے ہیں ۔ قال الشيخ الألباني : حسن وهو مکرر الحديث (3432) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3740