حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ . وَزَادَ أَبُو نُعَيْمٍ فِيهِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، قَالَ: مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں ١ ؎، اور ابونعیم نے اس میں «یوم الأحزاب» (غزوہ احزاب) کا اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا : کون میرے پاس کافروں کی خبر لائے گا ؟ تو زبیر (رض) بولے : میں، آپ نے تین بار اسے پوچھا اور زبیر (رض) نے ہر بار کہا : میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٤٠ (٢٨٤٦) ، و ٤١ (٢٨٤٧) ، ١٣٥ (٢٩٩٧) ، وفضائل الصحابة ١٣ (٣٧١٩) ، والمغازي ٢٩ (٤١١٣) ، والآحاد ٢ (٧٢٦١) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦ (٢٤١٥) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢٢) (تحفة الأشراف : ٣٠٢٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : غزوہ احزاب کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے جب کفار کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کے لیے یہ اعلان کیا کہ کون ہے جو مجھے کافروں کے حال سے باخبر کرے اور ایسا آپ نے تین بار کہا ، تینوں مرتبہ زبیر (رض) کے سوا کسی نے بھی جواب نہیں دیا ، اسی موقع پر آپ نے زبیر (رض) کے حق میں یہ فرمایا تھا : «ان لکل نبی حواریا و ان حواری الزبیر بن العوام» یہ بھی یاد رکھئیے کہ زبیر بن عوام نبی اکرم ﷺ کی سگی پھوپھی صفیہ (رض) کے بیٹے تھے ، اور ان کی شادی ام المؤمنین عائشہ کی بڑی بہن اسماء بنت ابی بکر (رض) کے ساتھ ہوئی تھی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (3744) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3745