حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقْبَلَ سَعْدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): هَذَا خَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهُ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ، وَكَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَتْ أُمُّ النَّبِيِّ (ﷺ) مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَلِذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): هَذَا خَالِي .
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص (رض) آئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ میرے ماموں ہیں، تو مجھے دکھائے کوئی اپنا ماموں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مجالد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- سعد بن ابی وقاص قبیلہ بنی زہرہ کے ایک فرد تھے اور نبی اکرم ﷺ کی والدہ محترمہ قبیلہ بنی زہرہ ہی کی تھیں، اسی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ میرے ماموں ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٣٥٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی میرے ماموں جیسے کسی کے ماموں نہیں ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (6118) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3752