حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَوَهِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) تَعْنِي فِي الْمَنَامِ، وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ.
سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کے پاس آئی، وہ رو رہی تھیں، میں نے پوچھا : آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ وہ بولیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے (یعنی خواب میں) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی، تو میں نے عرض کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا : میں حسین کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٨٢٧٩) (ضعیف) (سند میں سلمی البکریة ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6157) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3771