حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) الْمِنْبَرَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ.
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر چڑھ کر فرمایا : میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور «ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں (رض) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلح ٩ (٢٧٠٤) ، والمناقب ٢٥ (٣٦٢٩) ، وفضائل الصحابة ٢٢ (٣٧٤٦) ، والفتن ٢٠ (٧١٠٩) ، سنن ابی داود/ السنة ١٣ (٤٦٦٢) ، سنن النسائی/الجمعة ٢٧ (١٤١١) (تحفة الأشراف : ١١٦٥٨) ، و مسند احمد (٥/٣٧، ٤٤، ٤٩، ٥١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی میرا یہ نواسہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کا سبب بنے گا ، چناچہ خلافت کے مسئلہ کو لے کر جب مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے ، ایک گروہ معاویہ (رض) کے ساتھ اور دوسرا حسن (رض) کے ساتھ تھا ، تو حسن (رض) نے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر کے مسلمانوں کو قتل و خونریزی سے بچا کر اس امت پر بڑا احسان کیا اور یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے «جزاہ اللہ عن المسلمین خیر الجزاء»۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الروض النضير (923) ، الإرواء (1597) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3773