حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَال: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍيَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) وَاضِعًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْفُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ.
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ اپنے کندھے پر حسن بن علی (رض) کو بٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے : «اللهم إني أحبه فأحبه» اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ فضیل بن مرزوق کی (مذکورہ) روایت سے زیادہ صحیح ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جس روایت میں صرف حسن کو کندھے پر اٹھائے ہونے کا تذکرہ ہے وہ اس روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ حسن و حسین (رض) دونوں کو اٹھائے ہوئے تھے ، حالانکہ یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعے ہیں ، اور دونوں کے لیے یہ بات کہے جانے میں کوئی تضاد بھی نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2789) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3783