حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ) فَدَخَلَ حَائِطًا لِلْأَنْصَارِ فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَقَالَ لِي: يَا أَبَا مُوسَى أَمْلِكْ عَلَيَّ الْبَابَ فَلَا يَدْخُلَنَّ عَلَيَّ أَحَدٌ إِلَّا بِإِذْنٍ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَضْرِبُ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، قَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، فَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ: عُمَرُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، قَالَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا ؟ قَالَ: عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ، قَالَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ.
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چلا، آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : ابوموسیٰ ! تم دروازہ پر رہو کوئی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونے پائے ، پھر ایک شخص نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا : کون ہے ؟ انہوں نے کہا : ابوبکر ہوں، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ ابوبکر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا : انہیں آنے دو ، اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ، چناچہ وہ اندر آئے اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر ایک دوسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے کہا : کون ہے ؟ انہوں نے کہا : عمر ہوں، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ عمر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا : ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ، چناچہ میں نے دروازہ کھول دیا، وہ اندر آ گئے، اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دے دی، پھر ایک تیسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا : کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا : عثمان ہوں، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ عثمان اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا : ان کے لیے بھی دروازہ کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دے دو ، ساتھ ہی ایک آزمائش کی جو انہیں پہنچ کر رہے گی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی ابوعثمان نہدی سے آئی ہے، ٣- اس باب میں جابر اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٧٤) ، و ٦ (٣٦٩٣) ، و ٧ (٣٦٩٥) ، والأدب ١١٩ (٦٢١٦) ، والفتن ١٧ (٧٠٩٧) ، وخبر الواحد ٣ (٧٢٦٢) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣ (٢٤٠٣) (تحفة الأشراف : ٩٠١٨) ، و مسند احمد (٤/٣٩٣، ٤٠٦، ٤٠٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس سے آپ ﷺ کا اشارہ اس حادثہ کی طرف تھا جس سے عثمان (رض) اپنی خلافت کے آخری دور میں دوچار ہوئے پھر جام شہادت نوش کیا ، نیز اس حدیث سے ان تینوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ، اور یہ کہ ان کے درمیان خلافت میں یہی ترتیب ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3710