حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرآن مجید چار لوگوں سے سیکھو : ابن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، اور سالم مولی ابی حذیفہ سے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٢٦ (٣٧٥٨) ، و ٢٧ (٣٧٦٠) ، وفضائل الأنصار ١٤ (٣٨٠٦) ، و ١٦ (٣٨٠٨) ، وفضائل القرآن ٨ (٤٩٩٩) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٢ (٢٤٦٤) (تحفة الأشراف : ٨٩٣٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ یہ چار صحابہ خاص طور پر قرآن کے نبی اکرم ﷺ سے اخذ کرنے ، یاد کرنے ، بہتر طریقے سے ادا کرنے میں ممتاز تھے ، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کے سوا دیگر صحابہ کو قرآن یاد ہی نہیں تھا ، اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان سے مروی قراءت کی ضرور ہی پابندی کی جائے ، کیونکہ عثمان (رض) نے اعلی ترین مقصد کے تحت ایک قراءت کے سوا تمام قراءتوں کو ختم کرا دیا تھا ( اس قراءتوں سے مراد معروف سبعہ کی قراءتیں نہیں مراد صحابہ کے مصاحف ہیں ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1827) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3810