حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَصْرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْإِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَبَلَةُ بْنُ حَارِثَةَ أَخُو زَيْدٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعِي أَخِي زَيْدًا، قَالَ: هُوَ ذَا، قَالَ: فَإِنِ انْطَلَقَ مَعَكَ لَمْ أَمْنَعْهُ ، قَالَ زَيْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَا أَخْتَارُ عَلَيْكَ أَحَدًا، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَأْيَ أَخِي أَفْضَلَ مِنْ رَأْيِي. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الرُّومِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ.
زید بن حارثہ (رض) کے بھائی جبلہ بن حارثہ (رض) کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیجئیے، آپ نے فرمایا : وہ موجود ہیں اگر تمہارے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو میں انہیں نہیں روکوں گا ، یہ سن کر زید نے کہا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ! میں آپ کے مقابلہ میں کسی اور کو اختیار نہیں کرسکتا، جبلہ کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے افضل تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابن رومی کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ علی بن مسہر سے روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣١٨٢) (حسن) (تراجع الألبانی ٦٠٠) قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (6165 / التحقيق الثاني) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3815