حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جریر بن عبداللہ بجلی (رض) کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ ﷺ نے مجھے (اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے) منع نہیں فرمایا ١ ؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٦٢ (٣٠٣٥) ، وفضائل الأنصار ٢١ (٣٨٢٢) ، والأدب ٦٨ (٦٠٩٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٩ (٢٤٧٥) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٥٩) (تحفة الأشراف : ٣٢٢٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جب بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی آپ نے اجازت دیدی ، منع نہیں کیا ، اجازت کے بعد مستورات کو پردہ کرا کر اندر آنے دینے میں کوئی حرج نہیں ، اس سے خواہ مخواہ یہ نکتہ نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے خاص مردانہ حلیہ مراد ہے ، ہر بار اجازت لینے پر اندر آنے کی اجازت دے دینا اس آدمی سے خاص لگاؤ کی دلیل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (159) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3820