حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ، فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ، قَالَ: فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) ثَلَاثَ دَعَوَاتٍ قَدْ رَأَيْتُ مِنْهُنَّ اثْنَتَيْنِ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الْآخِرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ).
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گزرے تو میری ماں ام سلیم نے آپ کی آواز سن کر بولیں : میرے باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں اللہ کے رسول ! یہ انیس ١ ؎ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے تین دعائیں کیں، ان میں سے دو کو تو میں نے دنیا ہی میں دیکھ لیا ٢ ؎ اور تیسرے کا آخرت میں امیدوار ہوں ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اور وہ اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣٢ (٢٤٨١) (تحفة الأشراف : ٥١٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : انیس یہ انس کی تصغیر ہے۔ ٢ ؎ : ان دونوں دعاؤں کا تعلق مال و اولاد کی کثرت سے تھا ، انس (رض) کا خود بیان ہے کہ میری زمین سال میں دو مرتبہ پیداوار دیتی تھی ، اور میری اولاد میں میرے پوتے اور نواسے اس کثرت سے ہوئے کہ ان کی تعداد سو کے قریب ہے ( دیکھئیے اگلی حدیث رقم : ٣٨٤٦) ۔ ٣ ؎ : اس دعا کا تعلق گناہوں کی مغفرت سے تھا جو انہیں آخرت میں نصیب ہوگی۔ «إن شاء اللہ» قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3827