حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْأُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام سلیم (رض) کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! انس آپ کا خادم ہے، آپ اللہ سے اس کے لیے دعا فرما دیجئیے۔ آپ نے فرمایا : «اللهم أكثر ماله وولده وبارک له فيما أعطيته» اے اللہ ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی عطا فرما اور جو تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں برکت دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدعوات ٤٧ (٦٣٧٨، ٦٣٨٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣٢ (٢٤٨٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : دیکھئیے پچھلی حدیث کے حواشی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2246) ، تخريج المشکلة (12) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3829