حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ: اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ . قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَرُمَيْثَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا : اور سعد بن معاذ (رض) کا جنازہ (اس وقت لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا) : ان کے لیے رحمن کا عرش (بھی خوشی سے) جھوم اٹھا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں اسید بن حضیر، ابو سعید خدری اور رمیثہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/مناقب الأنصار ١٢ (٣٨٠٣) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٤ (٢٤٦٦) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٥٨) (تحفة الأشراف : ٢٨١٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : ان کے آسمان پر آ جانے کی خوشی میں ، بعض لوگوں نے رحمان کے عرش کو اٹھانے والے فرشتے مراد لیا ہے کہ وہ سعد بن معاذ (رض) کے آسمان پر آنے کی خوشی میں جھوم اٹھے ، بہرحال یہ ان کے مقرب بارگاہ الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3848