حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) اسْتَعْمَلَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: عَائِشَةُ ، قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ: أَبُوهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں لشکر ذات السلاسل کا امیر مقرر کیا، وہ کہتے ہیں : تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : عائشہ ، میں نے پوچھا : مردوں میں کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ان کے باپ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٦٢) ، والمغازي ٦٣ (٤٣٥٨) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٤) (تحفة الأشراف : ١٠٧٣٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : پیچھے فاطمہ (رض) کے مناقب میں گزرا ہے کہ عورتوں میں فاطمہ اور مردوں میں ان کے شوہر علی (رض) اللہ کے رسول ﷺ کو زیادہ محبوب تھے ، لیکن وہ حدیث ضعیف منکر ہے ، اور یہ حدیث صحیح ہے ، اور دونوں عورتوں اور دونوں مردوں کے اللہ کے رسول ﷺ کے زیادہ محبوب ہونے میں تضاد ہی کیا ہے ، یہ سب سے زیادہ محبوب تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3885