حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، يَقُولُ: هِيَ زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ يَعْنِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ.
عبداللہ بن زیاد اسدی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ یعنی عائشہ (رض) دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کی بیوی ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں علی (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفتن ١٨ (٧١٠٠، ٧١٠١) (تحفة الأشراف : ١٠٣٥٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : دیگر ازواج مطہرات کے دنیا میں دوسرے شوہر بھی تھے ، جبکہ عائشہ (رض) کا آپ کے سوا کوئی شوہر نہ تھا ، اور آخرت میں عائشہ (رض) کے آپ کی بیوی ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دیگر ازواج مطہرات آخرت میں آپ کی بیویاں نہیں ہوں گی ، عائشہ (رض) بھی ہوں گی ، وہ بھی ہوں گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح وانظر الحديث (4149) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3889