حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ ثِقَةً، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ: مَاتَتْ فُلَانَةُ لِبَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ (ﷺ)، فَسَجَدَ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا ، فَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ (ﷺ). قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عکرمہ کہتے ہیں کہ فجر کے بعد ابن عباس (رض) سے کہا گیا کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج میں سے فلاں کا انتقال ہوگیا، تو وہ سجدہ میں گرگئے، ان سے پوچھا گیا : کیا یہ سجدہ کرنے کا وقت ہے ؟ تو انہوں نے کہا : کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا : جب تم اللہ کی طرف سے کوئی خوفناک بات دیکھو تو سجدہ کرو ، تو نبی اکرم ﷺ کے ازواج کے دنیا سے رخصت ہونے سے بڑی اور کون سی ہوسکتی ہے ؟ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٦٩ (١١٩٧) (تحفة الأشراف : ٦٠٣٧) (حسن) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث یا دیگر احادیث میں اس جیسے سیاق و سباق میں «آیۃ» کا لفظ بطور خوفناک عذاب یا آسمانی مصیبت وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، جس سے مقصود بندوں کو ڈرانا ہوتا ہے ، تو ازواج مطہرات دنیا میں برکت کا سبب تھیں ، ان کے اٹھ جانے سے برکت اٹھ جاتی ہے ، اور یہ بات خوفناک ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، صحيح أبي داود (1081) ، المشکاة (1491) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3891