حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ .وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: لَوْ سَلَكَ الْأَنْصَارُ وَادِيًا، أَوْ شِعْبًا لَكُنْتُ مَعَ الْأَنْصَارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا ١ ؎۔ اسی سند سے نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٣) ، و مسند احمد (٥/١٣٧، ١٣٨) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس فرمان سے انصار کی دل جمعی مقصود ہے ، یعنی انصار کی خوشنودی کے لیے میں یہاں تک جاسکتا ہوں کہ اگر ممکن ہوتا تو میں بھی انصار ہی میں سے ہوجاتا ، مگر نسب کی تبدیل تو ممکن نہیں یہ بات انصار کی اسلام کے لیے فدائیت اور قربانی کا اعتراف ہے ، اگلا فرمان البتہ ممکن ہے کہ اگر انصار کسی وادی میں چلیں تو میں انہی کے ساتھ ہوں گا اگر اس کی نوبت آ پاتی تو مہاجرین و انصار کی آپسی محبت چونکہ اللہ و رسول کے حوالہ سے تھی اس لیے ان کے آپس میں اس طرح کی بات ہونے کی نوبت ہی نہیں آسکی ، (رض) ۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، الصحيحة (1768) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3899