hadith book logo

Jamiat Tirmidhi: Hadith 3917

.

جامع الترمذي

3917
Jamiat Tirmidhi
صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ):‏‏‏‏ مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو مدینہ میں مرسکتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہیں مرے کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے حق میں سفارش کروں گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے یعنی ایوب سختیانی کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں سبیعہ بنت حارث اسلمیہ سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الحج ١٠ (٣١١٢) (تحفة الأشراف : ٧٥٥٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی مدینہ میں رہنے کے لیے اسباب اختیار کرے ، اگر کامیابی ہوگئی تو «فبہا» ورنہ یہ کوئی فرض کام نہیں ہے ، نیز مدینہ میں اسی مرنے والے کے لیے آپ ﷺ شفاعت فرمائیں گے ، جس کی وفات صحیح ایمان و عقیدہ پر ہوئی ہو ، نہ کہ مشرک اور بدعتی کی شفاعت بھی کریں گے ، آپ نے فرمایا ہے : آخرت کے لیے اٹھا کر رکھی گئی میری دعا اس کو فائدہ پہنچائے گی جس نے اللہ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہیں کیا ہوگا ( اس حدیث میں مدینہ کی ایک اہم فضیلت کا بیان ہے ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3112) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3917