حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ (رض) کہتے تھے کہ اگر میں مدینہ میں ہرنوں کو چرتے دیکھوں تو انہیں نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : اس کی دونوں پتھریلی زمینوں ١ ؎ کے درمیان کا حصہ حرم ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سعد، عبداللہ بن زید، انس، ابوایوب، زید بن ثابت، رافع بن خدیج، سہل بن حنیف اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل المدینة ٤ (١٨٧٣) ، صحیح مسلم/الحج ٨٥ (١٣٧٢) (تحفة الأشراف : ١٣٢٣٥) ، وط/الجامع ٣ (١١) ، و مسند احمد (٢/٢٣٦، ٤٨٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ دونوں پتھریلی زمینیں ( حرہ ) حرّہ غربیہ اور حرّہ شرقیہ کے نام سے معروف ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3921