حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَامَ النَّبِيُّ (ﷺ) بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ لَيْلَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات قرآن کی صرف ایک ہی آیت کھڑے پڑھتے رہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٧٨٠٢) (صحیح الإسناد) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : تہجد کی ساری رکعتوں میں صرف یہی ایک آیت دھرا دھرا کر پڑھتے رہے۔ اور وہ آیت کریمہ یہ تھی : «إن تعذبهم فإنهم عبادک وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحکيم» (سورة المائدة : ) ، ( رواہ النسائی وابن ماجہ ) ، اے رب کریم ! اگر تو ان ( میری امت کے اہل ایمان ، مسلمانوں ) کو عذاب دے گا تو وہ تیرے بندے ہیں ، ( سزا دیتے وقت بھی ان پر رحم فرما دینا ) اور اگر تو ان کو بخش دے گا تو بلاشبہ تو نہایت غلبے والا اور دانائی والا ہے ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 448