حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فِي رَكْعَةٍ رَكْعَةٍ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْوِتْرِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ بِ: الْمُعَوِّذَتَيْنِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَالَّذِي اخْتَارَهُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ) وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ يَقْرَأَ بِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِنْ ذَلِكَ بِسُورَةٍ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وتر میں «سبح اسم ربک الأعلی» ، «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» تینوں کو ایک ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں علی، عائشہ اور عبدالرحمٰن بن ابزیٰ (رضی اللہ عنہم) جنہوں نے ابی بن کعب (رض) سے روایت کی ہے، بھی احادیث آئی ہیں، اور اسے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بغیر ابی کے واسطے کے براہ راست نبی اکرم ﷺ سے بھی روایت کیا جاتا ہے، ٢- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ وتر میں تیسری رکعت میں معوذتین اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، ٣- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم نے جس بات کو پسند کیا ہے، وہ یہ ہے کہ «سبح اسم ربک الأعلی» ، «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» تینوں میں سے ایک ایک ہر رکعت میں پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٥ (١١٧٢) ، ( تحفة الأشراف : ٥٥٨٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1172) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 462