حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مُوسَى الْمَرَئِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْوِتْرِ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَعَائِشَةَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ).
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ابوامامہ، عائشہ (رض) اور دیگر کئی لوگوں سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٥ ( ١١٩٥) ، ( تحفة الأشراف : ١٨٢٥٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : نووی کے بقول نبی اکرم ﷺ کا وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھنا بیان جواز کے لیے تھا ، آپ ہمیشہ ایسا نہیں کرتے تھے ، نہ کرسکتے تھے کہ آپ نے خود فرمایا تھا : وتر کو رات کی نماز ( تہجد ) میں سب سے اخیر میں کر دو تو آپ خود اس کی خلاف ورزی کیسے کرسکتے تھے ، یا پھر یہ مانیے کہ یہ آپ کے ساتھ خاص تھا ، اور شاید یہی وجہ ہے کہ امت کے علماء میں اس پر تعامل نہیں پایا گیا۔ واللہ اعلم۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1195) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 471