حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ (ﷺ)، يَقُولُ: مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرٍ، وَالْبَرَاءِ، وَعَائِشَةَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِي عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا،
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : جو جمعہ کی نماز کے لیے آئے اسے چاہیئے کہ (پہلے) غسل کرلے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس بات میں عمر، ابو سعید خدری، جابر، براء، عائشہ اور ابو الدرداء سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة (٨٤٤) ، ( تحفة الأشراف : ٦٨٣٣) ، مسند احمد (٢/٤١، ٤٢، ٥٣، ٧٥، ١٠١، ١١٥، ١٤١، ١٤٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء نے جمعہ کے دن کے غسل کو واجب قرار دیا ہے ، اور جو وجوب کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہاں امر تاکید کے لیے ہے اس سے مراد وجوب اختیاری ( استحباب ) ہے جیسے آدمی اپنے ساتھی سے کہے تیرا حق مجھ پر واجب ہے یعنی مؤکد ہے ، نہ کہ ایسا وجوب جس کے ترک پر سزا اور عقوبت ہو۔ ( اس تاویل کی وجہ حدیث رقم ٤٩٧ ہے ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1088) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 492