حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ وَإِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سائب بن یزید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر (رض) کے زمانے میں (پہلی) اذان اس وقت ہوتی جب امام نکلتا اور (دوسری) جب نماز کھڑی ہوتی ١ ؎ پھر جب عثمان (رض) خلیفہ ہوئے تو انہوں نے زوراء ٢ ؎ میں تیسری اذان کا اضافہ کیا ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٢١ (٩١٢) ، و ٢٢ (٩١٣) ، و ٢٤ (٩١٥) ، و ٢٥ (٩١٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٢٥ (١٠٨٧) ، سنن النسائی/الجمعة ١٥ (١٣٩٣) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٧ (١١٣٥) ، ( تحفة الأشراف : ٣٧٩٩) ، مسند احمد (٣/٤٥٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہاں دوسری اذان سے مراد اقامت ہے۔ ٢ ؎ : زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ کا نام تھا۔ ٣ ؎ : عثمان (رض) نے مسجد سے دور بازار میں پہلی اذان دلوائی ، اور فی زمانہ لوگوں نے یہ اذان مسجد کے اندر کردی ہے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اذان عثمان (رض) کی سنت ہے ، اگر کہیں واقعی اس طرح کی ضرورت موجود ہو تو اذان مسجد سے باہر دی جائے ، ویسے اب مائک کے انتظام اور اکثر لوگوں کے ہاتھوں میں گھڑیوں کی موجودگی کے سبب اس طرح کی اذان کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ گئی ، جس ضرورت کے تحت عثمان (رض) یہ زائد اذان دلوائی تھی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1135) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 516