حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ يُصَلُّونَ فِي الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُونَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ) وَغَيْرِهِمْ أَنَّ صَلَاةَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ. وَيُقَالُ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ خَطَبَ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر (رض) عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے اور اس کے بعد خطبہ دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہوگی، ٤- اور کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے جس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا وہ مروان بن حکم تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٣) ، صحیح مسلم/العیدین (٨٨٨) ، سنن النسائی/العیدین ٩ (١٥٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٥ (١٢٧٦) ، ( تحفة الأشراف : ٧٨٢٣) ، مسند احمد (٢/١٢، ٣٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مگر ایک صحابی رسول ﷺ نے اسے اس بدعت کی ایجاد سے روک دیا تھا (رض) وارضاہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1276) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 531