حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ . فَقَالَ ابْنُهُ: وَاللَّهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ يَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا، فَقَالَ: فَعَلَ اللَّهُ بِكَ وَفَعَلَ، أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، وَتَقُولُ: لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ ؟ ! قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
مجاہد کہتے ہیں : ہم لوگ ابن عمر (رض) کے پاس تھے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : عورتوں کو رات میں مسجد جانے کی اجازت دو ، ان کے بیٹے بلال نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے۔ وہ اسے فساد کا ذریعہ بنالیں گی، تو ابن عمر (رض) نے کہا : اللہ تجھے ایسا ایسا کرے، میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اور تو کہتا ہے کہ ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب اور زید بن خالد (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٦٦ (٨٦٥) ، (متابعةً ) صحیح مسلم/الصلاة ٣٠ (٤٤٢) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٥٣ (٥٦٨) ، سنن النسائی/المساجد ١٥ (٧٠٧) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٦) ، ( تحفة الأشراف : ٧٣٨٥) ، مسند احمد (٢/٧، ٩، ١٦، ٣٦، ٣٩، ٤٣، ٩٠، ١٢٧، ١٤٠، ١٤٣، ١٥١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : احمد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں تجھ سے بات نہیں کروں گا۔ اللہ اکبر ! صحابہ کرام (رض) اجمعین کے نزدیک یہ قدر تھی نبی اکرم ﷺ کے احکام اور آپ کی سنت کی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (577) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 570