حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأنْصَارِيِّ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قُلْتُ: فَأَنْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ نُحْدِثْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ حَدِيثٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ.
عمرو بن عامر انصاری کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، میں نے (انس سے) پوچھا : پھر آپ لوگ کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ جب تک ہم «حدث» نہ کرتے ساری نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور حمید کی حدیث جو انس سے مروی ہے جید غریب حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطہارة ٥٤ (٢١٤) سنن النسائی/الطہارة ١٠١ (١٣١) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٢ (٥٠٩) (تحفة الأشراف : ١١١٠) مسند احمد (٣/١٣٢، ١٩٤، ٢٦٠) ، سنن الدارمی/ الطہارة ٤٦ (٧٤٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (509) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 60