حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي وَالنَّبِيُّ (ﷺ) وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ مَعَهُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَدَأْتُ بِالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ ثُمَّ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، ثُمَّ دَعَوْتُ لِنَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): سَلْ تُعْطَهْ، سَلْ تُعْطَهْ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ مُخْتَصَرًا.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اور نبی اکرم ﷺ موجود تھے، ابوبکر اور عمر (رض) (بھی) آپ کے ساتھ تھے، جب میں (قعدہ اخیرہ میں) بیٹھا تو پہلے میں نے اللہ کی تعریف کی پھر نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا، پھر اپنے لیے دعا کی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مانگو، تمہیں دیا جائے گا، مانگ تمہیں دیا جائے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں فضالہ بن عبید (رض) سے روایت ہے، ٣- یہ حدیث احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے مختصراً روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف : ٩٢٠٩) ، وانظر : مسند احمد (١/٤٤٥، ٤٥٤) (حسن صحیح) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صفة الصلاة، تخريج المختارة (255) ، المشکاة (931) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 593