حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ (ﷺ) فِي جَفْنَةٍ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ: إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک بیوی نے ایک لگن (ٹب) سے (پانی لے کر) غسل کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس (بچے ہوئے پانی) سے وضو کرنا چاہا، تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ناپاک تھی، آپ نے فرمایا : پانی جنبی نہیں ہوتا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہی سفیان ثوری، مالک اور شافعی کا قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٣٥ (٦٨) سنن النسائی/المیاہ ١ (٣٢٦) (بلفظ ” لاینجسہ شیٔ “ ٣٣ (٣٧٠، ٣٧١) (تحفة الأشراف : ٦١٠٣) مسند احمد (١/٢٤٣) سنن الدارمی/الطہارة ٥٧ (٧٦١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کے بچے ہوئے پانی سے طہارت ( غسل اور وضو ) حاصل کرنا جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (370) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 65