حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ)، قَالَ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَالْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَعُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، أَنَّهُ قَالَ: فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ .
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سحری کھاؤ ١ ؎، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن مسعود، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، عمرو بن العاص، عرباض بن ساریہ، عتبہ بن عبداللہ اور ابو الدرداء (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ہمارے روزوں اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کھانے کا ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٥) ، سنن النسائی/الصیام ١٨ (٢١٤٨) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٦٨ و ١٤٣٣) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/الصوم ٢٠ (١٩٢٣) ، وسنن ابن ماجہ/الصیام ٢٢ (١٦٩٢) ، و مسند احمد (٣/٩٩، ٢١٥، ٢٥٨، ٢٨١) ، وسنن الدارمی/الصوم ٩ (١٧٣٨) ، من غیر ہذا الطریق۔ وضاحت : ١ ؎ : امر کا صیغہ ندب و استحباب کے لیے ہے سحری کھانے سے آدمی پورے دن اپنے اندر طاقت و توانائی محسوس کرتا ہے اس کے برعکس جو سحری نہیں کھاتا اسے جلدی بھوک پیاس ستانے لگتی ہے۔ ٢ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ سحری کھانا اس امت کی امتیازی خصوصیات میں سے ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1692) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 708