حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْتَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنَّمَا سَمَلَ النَّبِيُّ (ﷺ) أَعْيُنَهُمْ، لِأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرُّعَاةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ غَيْرَ هَذَا الشَّيْخِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، وَهُوَ مَعْنَى قَوْلِهِ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ سورة المائدة آية 45، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: إِنَّمَا فَعَلَ بِهِمُ النَّبِيُّ (ﷺ) هَذَا، قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں اس لیے پھیریں کہ ان لوگوں نے بھی چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اور اللہ تعالیٰ کے فرمان «والجروح قصاص» کا یہی مفہوم ہے، محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ حدود (سزاؤں) کے نازل ہونے سے پہلے کیا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/القسامة ٥ (الحدود) ٢ (١٤/١٦٧١) سنن النسائی/المحاربة ٩ (٤٠٤٨) (تحفة الأشراف : ٨٧٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (177) ، الروض النضير (43) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 73