حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْرَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) يَتَحَرَّى صَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حَفْصَةَ، وَأَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سوموار اور جمعرات کے روزے کی تلاش میں رہتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : عائشہ (رض) کی حدیث حسن ہے اور اس سند سے غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصیام ٣٦ (٢١٨٩) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٢ (١٧٣٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٠٨١) (صحیح) وأخرجہ کل من : سنن النسائی/الصیام السابق : ٢١٨٨، وباب ٧٠ (الأرقام : ٢٣٥٨، ٢٣٦٢-٢٣٦٥) ، و مسند احمد (٦/٨٠، ٨٩، ١٠٦) ، من غیر ہذا الطریق۔ وضاحت : ١ ؎ : اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی گئی ہے کہ ان دونوں دنوں میں اعمال اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں ، ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «تعرض الأعمال يوم الإثنين والخميس فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم» اور دوسری وجہ وہ ہے جس کا ذکر مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوموار ( دوشنبہ ) کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : یہ وہ دن ہے جس میں میری پیدائش ہوئی اور اسی میں میں نبی بنا کر بھجا گیا ، یا اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1739) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 745