حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَال: سَمِعْتُ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: قُلْتُلِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ كَانَ يَصُومُ، قَالَتْ: كَانَ لَا يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ صَامَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَيَزِيدُ الرِّشْكُ هُوَ يَزِيدُ الضُّبَعِيُّ وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ وَهُوَ الْقَسَّامُ، وَالرِّشْكُ هُوَ الْقَسَّامُ بِلُغَةِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ.
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں رکھتے تھے، میں نے کہا : کون سی تاریخوں میں رکھتے تھے ؟ کہا : آپ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ کون سی تاریخ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یزید الرشک یزید ضبعی ہی ہیں، یہی یزید بن قاسم بھی ہیں اور یہی قسّام ہیں، رشک کے معنی اہل بصرہ کی لغت میں قسّام کے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٣٦ (١١٦٠) ، سنن ابی داود/ الصیام ٧٠ (٢٤٥٣) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٩ (١٧٠٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٩٧٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1708) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 763